Type Here to Get Search Results !

Aankhen Shayari : aankhen Shayari in urdu - urdu aankhen poetry

1

 Aankhen Shayari : aankhen Shayari in urdu - urdu aankhen poetry :



آنکھوں کی ہم سے محبت بھی کمال ہے 

تکلیف جہاں بھی ہوتی ہے بہہ یہ اٹھتی ہے


-----------------------------------

بھرم رکھا ہے میرے آنسوؤں نے میری محبت کا 

ورنہ میری باتوں کا یقین اسے کہاں آتا


-----------------------------------

پلکوں سے کہیں گر نہ جائے موتی سنبھال لو

دنیا کے پاس دیکھنے والی نظر کہاں


-----------------------------------

میری آنکھ کا ہر قطرہ تیری محبت کی نشانی ہے

تم سمجھو تو موتی ہیں لوگ سمجھیں تو پانی ہے


-----------------------------------

کون تھا جسے دکھ سناتے؟

آسمان کی طرف سر کیا اور رو دئیے


-----------------------------------

آنسوؤں سے بھیگی مسکراہٹیں 

عجیب مگر بہت دردناک ہوتی ہیں 


-----------------------------------

نہ جانے کون سا آنسو کسی سے کیا کہہ دے

ہم اس خیال سے نظریں جھکائے بیٹھے ہیں


-----------------------------------

سلیقہ ہو اگر بھیگی ہوئی آنکھوں کو پڑھنے کا

بہتے ہوئے آنسو بھی اکثر بات کرتے ہیں


Best Aankhen Shayari in urdu:



اس خیال سے آنسو چھپا لیے ہم نے 

اداس رہ کے کسی کو اداس کیا کرنا 



-----------------------------------

میں لاکھ کروں کوشش چھپانے کی 

مگر یہ آنسو تماشہ بنا ہی دیتے ہیں



-----------------------------------

آخر گرتے ہوئے آنسووں نے مجھ سے پوچھ ہی لیا 

نکال دیا مجھے اس کے لیے جس کے لیے تو کچھ بھی نہیں



-----------------------------------

آنسوں اٹھا لیتے ہیں میرے غم کا بوجھ

یہ وہ دوست ہیں جو احسان جتایا نہیں کرتے


Must check: Dosti Shayari : 


-----------------------------------

‏ہاتھ شاید بنے ہی اس کام کیلئے ہیں 

ایک الوداع کہنے کیلئے دوسرا آنسو پونچھنے کیلئے




-----------------------------------

وہ شخص بس گیا میرے دل میں ایک کہانی بن کر 

پھر وہ ہر روز بیان ہوا میری آنکھوں سے پانی بن کر


-----------------------------------

رونے کے لئے ضروری نہیں آنکھوں کا نم ہونا

اکثر دل رویا کرتا ہے شام ہونے کے بعد



-----------------------------------

وہ آنسو بڑے مقدس ہیں جو دوسروں کے دکھ میں نکلیں



Latest aankhen Shayari in urdu 
Urdu aankhen poetry



وہ آنسو بہت اذیت ناک ہوتے ہیں

 جو چپکے سے بہہ کر تکیے میں جذب ہو جاتے ہیں

-----------------------------------


اتنے پاس آئے کہ ان آنکھوں کو آنسو دے گئے 

لوگ جو میرے تبسم کی علامت تھے کبھی


-----------------------------------

تم نے مڑ کر دیکھا ہی نہیں 

کتنے آنسوں لئے بیٹھے تھے تیری راہ میں ہم 


-----------------------------------


کاش آنسو  جمع کیے ہوتے

آج اپنا بھی ایک سمندر ہوتا 


-----------------------------------

 صبح جب اٹھو تو آنکھ میں ایک آنسو ضرور ہوتا ہے 

تیری یاد کا تیرے خواب کا اور تیرے انتظار کا



-----------------------------------

کبھی گلے سے مل کر روئے تو کبھی تنہا ہو کر روئے 

سجدوں سے فارغ ہوئے تو دعا میں تیری طلب کر کے روئے 



-----------------------------------

اب تو ہم روئیں گے ساون کی بارش جیسے 

سنا ہے میرے رونے سے اسے تسکین ملتی ہے



-----------------------------------

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتی 

اب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتی


-----------------------------------


اپنے آنسو صاف کرنے کے بجائے زندگی سے 

ان لوگوں کو صاف کریں جو ان کا باعث ہیں



Post a Comment

1 Comments
  1. This comment has been removed by a blog administrator.

    ReplyDelete
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.